Home Blog Page 4

حضرت زکریا علیہ السلام کا قصہ

0
حضرت زکریا

حضرت زکریا

For more waqiat like this click here

حضرت زکریا علیہ السلام کو قوم بنی اسرائیل اور پیغمبروں میں برگزیدہ بنا کر بھیجا گیا۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالی کے معزز اور جمیل القدر پیغمبروں میں سے ہیں۔

 

ایک روایت میں ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ اور دوسری روایات میں ارمیہ کی اولاد میں سے تھے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ دن گزرتے گئے ابراہیم اور یعقوب کی نسل سے کچھ نیک لوگ پیدا ہوئے۔ جن کو آل عمران کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

 

اللہ تعالی نے سورہ آل عمران میں فرمایا: “خدا نے آدم اور نوح اور خاندان ابراہیم اور خاندان عمران کو تمام جہان کے لوگوں میں منتخب فرمایا تھا۔ ان میں سے بعض بعض کی اولاد تھے اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے”۔

 

حضرت زکریا علیہ السلام کی بیوی یحییٰ علیہ السلام کی والدہ اور مریم علیہ السلام کی والدہ حنا دونوں حقیقی بہنیںحضرتz  تھیں۔ جبکہ زکریا علیہ السلام رشتے میں مریم علیہ السلام کے خالو لگتے تھے۔

 

حضرت عمران علیہ السلام کی بیوی نے منت مانی تھی کہ جو بچہ پیدا ہوگا۔ اسے بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کر دیں گی۔ حضرت مریم علیہ السلام کی پیدائش کے بعد جب انہیں بیت المقدس میں لایا گیا۔ تو ان کی کفالت کی ذمہ داری اللہ نے حضرت ذکریا علیہ السلام پر ڈالی۔

 

حضرت زکریا علیہ السلام بنی اسرائیل میں معزز شخص مانے جاتے تھے۔ حضرت ذکریا علیہ السلام کی کفالت میں مریم علیہ السلام نے بہت اچھی پرورش پائی اور وہ نیک، عبادت گزار اور بہت زیادہ سچ بولنے والی تھی۔

 

سورہ آل عمران میں ارشاد ہوا تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو ان کا متکلف بنایا۔ زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس (مریم علیہ السلام) کے پاس جاتے۔

 

تو اس کے پاس کھانا پاتے کی کیفیت دیکھ کر۔ ایک دن مریم سے پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے۔ وہ بولیں خدا کے ہاں سے آتا ہے۔ بے شک خدا جسے چاہتا ہے بے شمار رزق دیتا ہے۔

 

بخاری و مسلم ترمذی و نسائی کی حدیث ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ (مریم علیہ السلام) اپنے زمانے میں سب سے افضل عورت تھیں۔ اور اس امت میں خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ سب سے افضل عورت ہے۔

اولاد کی خواہش

زکریا علیہ السلام نے جب حضرت مریم علیہ السلام کی فضیلت دیکھی تو ان کے دل میں بھی اولاد کی خواہش پیدا ہوئی۔ کیونکہ اس وقت تک آپ بے اولاد تھے۔ جبکہ آپ کی عمر اس وقت سو سال سے زائد تھی اور بیوی نوے سال کی تھی۔

 

اولاد کی شدید تمنا کے باعث انہوں نے اللہ سے مدد مانگی۔ جس کا ذکر یوں آتا ہے ترجمہ “یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی کا بیان ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی۔ جو میری اور اولاد یعقوب کی میراث کا مالک ہو اور اے میرے پروردگار اس کو خوش اطوار بناؤ۔

 

زکریا علیہ سلام اپنے دور میں اکیلے ہی نبی تھے۔ ان کے دور میں اصحاب و رشتہ دار میں کوئی قابل آدمی نہ تھا۔ تو ہم نے ان کی پکار سن لی اور ان کو یحییٰ بخشے اور ان کی بیوی کو ان کے حسن معاشرت کے قابل بنا دیا۔ یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے”۔

دعا کی قبولیت

زکریا علیہ سلام یہ سن کر خوش ہوئے اور حیران بھی کہنے لگے “پروردگار میرے ہاں کس طرح لڑکا ہوگا۔ جس حال میں میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ گیا ہوں”۔

 

اللہ تعالی نے جواب دیا حکم ہوا کہ “اسی طرح ہوگا۔ تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ مجھے یہ آسان ہے کہ میں پہلے تم کو بھی پیدا کر چکا ہوں اور تم کچھ چیز نہ تھے”۔

 

زکریا علیہ السلام نے عرض کیا کہ “اے پروردگار میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما دیجیے۔ فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم صحیح و صالم ہو کر تین دن رات لوگوں سے بات نہ کر سکو گے”۔

 

جب اللہ نے نشانی ظاہر کی چنانچہ جب وہ وقت آیا کہ آپ علیہ سلام بول سکتے تھے۔ مگر بول نہ پائے اور صبح و شام اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے۔ یہ نشانی تھی کہ ان کے ہاں بچہ پیدا ہونے والا ہے۔

 

پھر وہ عبادت کے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے۔ تو ان سے اشارے سے کہا صبح و شام خدا کو یاد کرتے رہو۔ اللہ تعالی نے سورہ آل عمران میں فرمایا وہ ابھی عبادت گاہ میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے آواز دی کہ زکریا خدا تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے۔

جو خدا کے فیض یعنی عشاء کی تصدیق کریں گے اور سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے اور خدا کے پیغمبر یعنی نیکوکاروں میں ہوں گے۔اللہ نے انہیں یحییٰ کے روپ میں انتہائی فرمانبردار نیک صالح پرہیزگار اور عبادت گزار بیٹا عطا فرمایا۔

حضرت زکریا علیہ السلام اللہ تعالی کا شکر بجا لائے اور قوم بنی اسرائیل کو وعظ و نصیحت کرتے رہے۔ بنی اسرائیل کی خباثت جب بنی اسرائیل نے حضرت زکریا علیہ السلام کو مارنے کا قصد کیا۔ تو آپ نے ظالموں سے بچنے کے لیے ایک درخت کے کھوکھلے تنے میں جاتے ہوئے دیکھا۔

جب وہاں پہنچے تو آپ کو کہیں نہ پایا۔ اتنے میں لوگ کے پاس شیطان آیا اور بتایا کہ جس کو آپ تلاش کر رہے ہیں۔ “وہ یہاں ہے”۔ اس کے بعد آپ کو شہید کر دیا گیا۔

نصیحت

انسان کتنے ہی بلند و بالا مقام پر پہنچ جائے اور اللہ کے ساتھ اسے زیادہ قرب حاصل ہو جائے۔ تب بھی وہ اللہ کا بندہ ہی رہتا ہے اور کسی بھی بلندی پر پہنچ کر وہ اللہ یا اللہ کا بیٹا نہیں ہو سکتا۔ نہ اس کا شریک ہو سکتا ہے۔ اللہ جل شانہ کی ذات پاک، وحدہ ہو لا شریک ہے اور باپ بیٹے کی نسبتوں سے پاک ہے۔

لہذا ہمیں اپنے آپ کو لمحے لمحے گمراہی سے بچانا چاہیے تاکہ اللہ پکڑ سے بچے رہیں۔ اس کے لیے ایمان کی مضبوطی حد درجہ لازم ہے۔ ایمان کے لیے لازم ہے کہ اس کے ساتھ اسلام بھی پایا جائے۔

اسی طرح حقیقی اسلام کے لیے شرط ہے کہ اس کے ساتھ ایمان بھی ہو۔ ایمان دین کی ہر اس بات کو دل سے سچا ماننے اور زبان سے ان کا اقرار کرنے اور اپنے عمل سے اس کو ظاہر کرنے کا نام ہے۔ جو اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر مقرر کر دیا۔

جبکہ اسلام اطاعت فرمانبرداری اور عمل کرنے کا نام ہے۔ اللہ تعالی ہمیں پرہیزگاری عطا فرمائے اور دین کی تعلیمات پر پورے طور پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے-آمین یارب العالمین

 

 

 

جن کا حضرت محمد ﷺ سے ملاقات کا واقعہ

0
حضرت محمد ﷺ سے

جن کا حضرت محمد ﷺ سے ملاقات کا واقعہ

حضرت محمد ﷺ سے مکہ معظمہ میں ولید نامی کافر رہا کرتا تھا۔ اس کا ایک سونے کا بت تھا۔ جس کی وہ پوجا کیا کرتا تھا۔ ایک دن اس بت میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ کہنے لگا۔ لوگو محمد اللہ کا رسول نہیں ہے
(معاذ اللہ)

 

ولید بڑا خوش ہوا اور باہر نکل کر اپنے دوستوں سے کہنے لگا۔ مبارک ہو! آج میرا معبود بولا ہے اور صاف صاف اس نے کہا کہ محمد اللہ کا رسول نہیں ہے۔ یہ سن کر لوگ اس کے گھر آئے اور دیکھا کہ واقعی اس کا بت یہ جملے دہرا رہا ہے۔

 

وہ لوگ بہت خوش ہوئے اور دوسرے دن ایک عام اعلان کے ذریعے ولید کے گھر میں ایک بہت بڑا اجتماع ہو گیا۔ تاکہ اس دن لوگ بت کے منہ سے وہی جملہ سنیں۔ اس بڑے اجتماع میں ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی دعوت دی۔

 

تاکہحضرت محمد ﷺ خود تشریف لا کر بت کے منہ سے وہی جملے سنے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی تشریف لائے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔

 

تو بت بول اٹھا اے لوگو! خوب جان لو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں۔ ان کا ہر ارشاد سچا ہے اور ان کا دین حق پر ہے۔ تم اور تمہارے بت جھوٹے ہیں۔ جو تمہیں گمراہ کرنے والے ہیں۔ اگر تم اس سچے رسول پر ایمان نہ لاؤ گے۔ تو جہنم میں جاؤ گے۔ پس عقلمندی سے کام لو اور سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اختیار کر لو۔

 

بت کی یہ باتیں سنکر ولید بڑا گھبرایا اور اپنے معبود کو پکڑ کر زمین پر دے مارا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فاتحانہ طور پر واپس ہوئے۔ تو راستے میں ایک گھوڑ سوار جو سبز پوش تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا۔ اس کے ہاتھ میں تلوار تھی۔ جس سے خون ٹپک رہا تھا۔

 

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا تم کون ہو؟ بولا میں جن ہوں اور آپ کا غلام اور مسلمان ہوں۔ جبلتور میں رہتا ہوں۔ میرا نام معین بن الابر ہے۔ میں کچھ دنوں کے لیے کہیں باہر گیا ہوا تھا۔ آج گھر واپس آیا تو میرے گھر والے رو رہے تھے۔

 

میں نے وجہ پوچھی تو معلوم ہوا کہ کافر جن جس کا نام مسفر تھا۔ وہ مکہ میں آ کر ولید کے بت میں گھس کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف فضول گوئی کر گیا ہے۔

 

اور آج پھر وہ یہی بکواس دوبارہ بت میں گھس کر کرنے والا تھا۔ اس سے پہلے وہ آپ کے متعلق بکواس کرتا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے سخت غصہ آیا۔ میں تلوار لے کر اس کے پیچھے دوڑا اور اسے راستے میں قتل کر دیا۔

 

پھر میں خود ولید کے بت میں گھس گیا اور اب جو کچھ کہا میں نے کہا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قصہ سنا تو بڑی خوشی کا اظہار کیا۔ اور اپنے اس جن غلام کے لیے دعا فرمائی۔
For more quote like this click here

You May also Like:)

Love quote in Urdu
“Echoes of Sorrow: Sad Quote in Urdu”

Top 14 Logical Quotes of Albert Einstein

0
Albert Einstein

Albert Einstein:

Albert Einstein, the iconic physicist whose name has become synonymous with genius, revolutionized our understanding of the universe with his groundbreaking theories. Born in 1879 in Ulm, Germany, Einstein showed early signs of intellectual brilliance but struggled within the confines of traditional schooling. He eventually found his stride, proposing his theory of relativity in 1905, which fundamentally altered the way we perceive space, time, and gravity. His equation E=mc², describing the equivalence of mass and energy, remains one of the most famous formulas in physics. Beyond his scientific contributions, Einstein was also a vocal advocate for pacifism, civil rights, and international cooperation. His legacy as a scientist and humanitarian continues to inspire generations, reminding us of the profound impact one individual can have on the world.

 

Albert Einstein

Albert Einstein Albert Einstein Albert Einstein Albert Einstein Albert Einstein Albert Einstein Albert Einstein Albert Einstein

For more quote like this click here

You May also Like:)

Love quote in Urdu
“Echoes of Sorrow: Sad Quote in Urdu”

نمازی اور شیطان کا واقعہ

0
نماز
ایک شخص اندھیری رات میں فجر کی نماز پڑھنے کے لیے گھر سے نکلا۔ اندھیرے کی وجہ سے اسے ٹھوکر لگ گئی اور وہ منہ کے بل کیچڑ میں گر گیا۔ کیچڑ سے اٹھ کر وہ گھر واپس آیا اور لباس تبدیل کر کے دوبارہ مسجد کی طرف چل دیا۔
ابھی چند قدم ہی چلا تھا کہ دوبارہ اسے ٹھوکر لگی اور وہ دوبارہ کیچڑ میں گر گیا۔ کیچڑ سے اٹھ کر وہ پھر دوبارہ اپنے گھر گیا۔ لباس بدلا اور مسجد جانے کے لیے دوبارہ گھر سے نکلا۔
جیسے ہی وہ اپنے گھر سے باہر نکلا۔ تو اس کے دروازے پر اسے ایک شخص ملا۔ جو اپنے ہاتھ میں روشن چراغ تھامے ہوئے تھا۔ چراغ والا شخص چپ چاپ نمازی کے آگے مسجد کی طرف چل دیا۔ اس مرتبہ چراغ کی روشنی میں نمازی کو مسجد پہنچنے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
وہ خیریت سے مسجد پہنچ گیا۔ مسجد کے دروازے پر پہنچ کر چراغ والا شخص رک گیا۔ نمازی اسے چھوڑ کر مسجد داخل ہوگیا اور نماز ادا کرنے لگا۔ نماز سے فارغ ہو کر وہ مسجد کے باہر آیا۔ تو وہ چراغ والا شخص اس کا انتظار کر رہا تھا۔
تاکہ اس نمازی کو چراغ کی روشنی میں گھر چھوڑ آئے۔ جب نمازی گھر پہنچ گیا۔ تو نمازی نے اجنبی شخص سے پوچھا: آپ کون ہے؟ اجنبی بولا سچ بتاؤں تو میں ابلیس ہوں۔ نمازی کی تو حیرت کی انتہا نہ رہی۔
اس اجنبی کی یہ بات سن کر نمازی سوچنے لگا۔ ابلیس شیطان کیسے مجھے مسجد تک چھوڑ سکتا ہے؟ اس کا کام تو لوگوں کو بہکانا ہے۔ تو اس شخص نے بڑی حیرت کے ساتھ ابلیس سے پوچھا: تجھے تو میری نماز رہ جانے پہ خوش ہونا چاہیے تھا۔
مگر تم تو چراغ کی روشنی میں مجھے مسجد تک چھوڑنے آئے۔ ابلیس نے جواب دیا کہ جب تمہیں پہلی ٹھوکر لگی۔ اور تم لباس تبدیل کرکہ مسجد کی طرف پلٹے۔ تو اللہ تعالی نے تیرے سارے گناہ معاف فرما دیے۔
جب تمہیں دوسری ٹھوکر لگی تو اللہ تعالی نے تمہارے پورے خاندان کو بخش دیا۔ جس پر مجھے فکر ہوئی کہ اگر اب تمہیں ٹھوکر لگی۔ تو اللہ تعالیٰ کہیں تمھارے اس عمل کی بدولت تمارے سارے گاؤں کی مغفرت نہ فرما دے۔
اس لیے میں چراغ لے کر آیا ہوں کہ تم بغیر گرے مسجد تک پہنچ جاؤ۔ اس شخص نے جیسے ہی یہ بات سنی۔ تو اس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنا سر جھکا کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ تو دوستو یہ ہے ہمارے رب کی شان۔ سبحان اللہ

——————————————————————————————————

The incident of the prayer and the devil

A person left his house in the dark night to offer the Fajr prayer. Due to the darkness, he stumbled and fell on his face in the mud. Rising from the mud, he returned home and changed his clothes and again walked towards the mosque.
He had only gone a few steps when he stumbled again and fell into the mud again. Rising from the mud, he again went to his home. He changed his clothes and left the house again to go to the mosque.
As soon as he left his house. So at his door he found a man. Who was holding a lighted lamp in his hand. The man with the lamp quietly walked towards the mosque ahead of the prayer. This time, in the light of the lamp, the worshiper did not face any difficulty in reaching the mosque.
He reached the mosque safely. On reaching the door of the mosque, the man with the lamp stopped. The worshiper left him and entered the mosque and started offering prayers. After finishing the prayer, he came outside the mosque. So the man with the lamp was waiting for him.
So that this prayer leaves the house in the light of the lamp. When the prayer reached home. So the prayer asked the stranger: Who are you? The stranger said, “If I tell you the truth, I am the Devil.” There was no end to the surprise of the worshiper.
Hearing this from this stranger, Namazi started thinking. How can Satan leave me to the mosque? His job is to deceive people. So this person asked Iblees with great surprise: You should have been happy that my prayer was left.
But you came to drop me to the mosque in the light of the lamp. Iblis replied that when you first stumbled. And you change your clothes and turn towards the mosque. So Allah has forgiven all your sins.
When you had another stumbling block, Allah Almighty forgave your entire family. At which I was worried that if now you stumble. So may Allah forgive your whole village because of this act of yours.
That is why I have brought a lamp so that you can reach the mosque without falling. As soon as the man heard this. So he bowed his head in the presence of Allah and thanked Allah. So friends, this is the glory of our Lord. Subhan Allah

——————————————————————————————————

You May also Like:)

Love quote in Urdu
“Echoes of Sorrow: Sad Quote in Urdu”

بسم اللہ کی برکت کا واقعہ

0
بسم اللہ کی برکت کا واقعہ
بسم اللہ کی برکت کا واقعہ
کہا جاتا ہے کہ کسی علاقے میں قحط سالی پیدا ہوگئی۔ اس قحط سالی کی لپیٹ میں نہ صرف انسان بلکہ چرند و پرند سب اس کا شکار ہوگئے۔ مویشی مالکان بے حد پریشان تھے۔اس دوران ایک مسجد کے مولوی نے جمعہ کے خطبے میں نہایت یقین کے ساتھ یہ بات بتائی کہ اللہ کا نام لے کر یعنی بسم اللہ پڑھ کر دریا کو حکم دیا جائے تو وہ بھی نافرمانی نہیں کرتا۔
خطبہ سننے والوں میں ایک چرواہا بھی مجود تھا۔ مولوی کی یہ بات اس کے دل میں اتر گئی۔ اور اس بات پر اس کا یقین کامل ہوگیا۔ اس نے واپس آ کر اپنی بکریاں کھولیں اور سیدھا دریا پر چلا گیا۔ اونچی آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا اور دریا کو کہا وہ اپنی بکریاں چروانے کے لیے دوسرے پار جانا چاہتا ہے۔ اور اسے کہا کہ مجھے اپنے اوپر سے گزرنے دے۔
یہ کہہ کر اس نے اپنی بکریوں کو لیا اور دریا پر چلتا ہوا دریا پار کر گیا۔ دریا کے دوسری طرف کاعلاقہ گھاس سے بھرا پڑا ہوا۔ درختوں کے پتے بھی سلامت تھے۔ کیونکہ کسی کو یہاں تک آنے کی رسائی نہیں تھی۔ اس نے خوب اچھی طرح اپنی بکریوں کو سیر کروایا اور واپس لوٹ آیا۔
پھر یہ اس کا معمول بن گیا کہ وہ بکریاں پار چھوڑ کر واپس آ جاتا اور شام کو جا کر بکریاں واپس لے آتا۔ اس کی بکریوں کا وزن دگنا چوگنا ہو گیا۔ لوگ چونک گئے اور اس سے پوچھا کہ وہ اپنی بکریوں کو کیا کھلاتا ہے۔ وہ سیدھا سادھا اور صاف دل نوجوان تھا۔ اس نے صاف صاف بات بتا دی کہ جناب میں تو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر دریا پر چل کر اپنی بکریاں دوسری طرف چروانے لے جاتا ہوں۔
یہ بات سب نے سنی مگر کسی نے اس چرواہے کی بات پر یقین نہیں کیا۔ کیونکہ یہ ناقابل یقین بات تھی۔ مگر بات ہوتے ہوتے مولوی صاحب کے پاس پہنچ گئی۔ مولوی صاحب نے اس چرواہے کو بلایا اور سارا ماجرا پوچھا۔
اس چرواہے نے مولوی صاحب کو ہی حوالہ بنا لیا کہ مولوی صاحب میں تو آپ کا شکریہ ادا کرنے والا تھا۔ آپ نے جمعہ کے خطبے میں جو نسخہ بتایا تھا کہ بسم اللہ کہہ کر دریا کو بھی حکم دو تو وہ بھی انکار نہیں کرتا۔ تو میں تو بس آپ کے نسخے پر ہی عمل کر رہا ہوں۔
مولوی صاحب حیرت سے اس کے چہرے کو دیکھتے رہے۔ مولوی صاحب نے کہا بھائی صاحب! ایسی باتیں تو ہم ہر جمعہ میں کرتے ہیں۔ فقط ان کا مقصد لوگوں کا ایمان بنانا ہوتا ہے۔ مگر بکریوں والا ڈٹا رہا کہ میں تو بس بسم اللہ کہہ کر پانی پر چلتا ہوں اور بکریوں سمیت پانی پار چلا جاتا ہوں۔
آخر کار مولوی صاحب نے صبح خود یہ تجربہ کرنے کی ٹھانی۔ جسے دیکھنے چرواہے سمیت پورا علاقہ بھی آگیا۔ مجمع زیادہ تھا۔ مولوی صاحب نے ایک دو بار سوچا کہ انکار کر دوں کہ کہیں ڈوب نہ جاؤں۔ مگر وہ جو مولوی صاحب کو کندھے پر اٹھا کر لائے تھے۔ اب بھی جوش و خروش سے اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے۔ اور مولوی صاحب کے حق میں تعریفیں کر رہے تھے۔
آخر کار مولوی صاحب نے اپنے ڈر کو دور کرنے کے لیے ایک رسہ منگوایا۔ پہلے اسے ایک درخت کے ساتھ باندھا پھر اپنی کمر کے ساتھ باندھا پھر ڈرتے ڈرتے ڈھیلا ڈھالا بسم اللہ پڑھا اور دریا پر چلنا شروع ہو گئے۔
مگر پہلا پاؤں ہی رکھا تھا کہ پانی میں گر گئے۔ مولوی صاحب ڈوبکیاں کھانے لگے اور پانی کے بہاؤ میں بہنا شروع ہو گئے۔ لوگوں نے کھینچ کھینچ کر باہر نکالا۔ مولوی صاحب کی اس حرکت نے چرواہے کو پریشان کر دیا کہ مولوی صاحب کی بسم اللہ کو یہ کیا ہو گیا ہے؟ کیونکہ اس کا یہ روز کا معمول تھا۔
اس کے اپنے یقین میں کوئی فرق نہ آیا۔ اس نے بسم اللہ کہہ کر بکریوں کو پانی کی طرف اشارہ کیا۔ اور خود ان کے پیچھے چلتا ہوا پار چھوڑ کر واپس بھی آگیا۔ لوگ اسے ولی اللہ سمجھ رہے تھے۔ اور اس کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ مگر وہ سب سے بے نیاز, سیدھا سادہ انسان تھا۔ وہ مولوی صاحب کے پاس پہنچا اور کہا۔
مولوی صاحب میں آپکی بسم اللہ کی تعریف سے کافی پریشان تھا۔ مگر پانی پر چلتے ہوئے مجھے آپ کی بسم اللہ کی بیماری کا پتہ چل گیا۔ اس چرواہے نے درخت سے بندھی رسی کی طرف اشارہ کیا اور کہا مولوی صاحب یہ ہے۔ آپ کی بسم اللہ کی بیماری آپ کی بسم اللہ کی برکت کو یہ رسہ کھا گیا۔
آپ کو اللہ اور بسم اللہ سے زیادہ اس رسے پر بھروسہ تھا۔ لہذا اللہ نے بھی آپ کو رسی کے حوالے کر دیا۔ پھر کہنے لگا مولوی صاحب آپ بھی کمال کرتے ہو۔ میں نے آپ کے منہ سے سنا اور یقین کر لیا اور میرے اللہ نے میرے یقین کی لاج رکھ لی۔
مگر آپ نے اللہ کا کلام سنا مگر یقین نہیں کیا۔ لہذا آپ کو اللہ نے رسوا کر دیا۔ محترم عزیز دوستو یہی کچھ ہمارا حال ہے۔ ہماری نمازوں اور دعاؤں کا حال بھی یقین سے خالی ہے۔
For more quote like this click here

You May also Like:)

Love quote in Urdu
“Echoes of Sorrow: Sad Quote in Urdu”

Top 5 Best Quotes of life in Urdu|Best Quotes of life

0
best quotes of life

Best life Quotes:

Life’s richness unfolds through a tapestry of experiences, and great quotes offer threads of wisdom to guide us on the way. They remind us to face challenges with courage, to find joy in each moment, and to embrace the journey of self-discovery. Whether it’s the unwavering determination to overcome obstacles or the simple act of appreciating the beauty around us, these quotes inspire us to live life to the fullest.

best quotes of life

“زندگی کی اصل خوشی اس میں خوش رہنے کی عادت ہے۔”

best quotes of life

“زندگی میں ہر لمحہ انمول ہے، اسے بہترین طریقے سے گزارو۔”

best quotes of life

“دنیا میں سب سے بڑی کمزوری اپنے آپ کو سمجھنا ہے۔”

best quotes of life

“ہر مشکل کا سامنا کرو، زندگی میں کبھی ہار مت مانو۔”

best quotes of life

“ہر تکليف ایک موقع ہے، وہی آپ کو بہتر بناتی ہے۔”
For more quote like this click here

You May also Like:)

Love quote in Urdu
“Echoes of Sorrow: Sad Quote in Urdu”

فرعون کا عبرتناک انجام

0
فرعون کا آج سے تین ہزار سال قبل جب مصر میں فرعون نے بنی اسرائیل پر ظلم و ستم ڈھائے اور انہیں اپنا غلام بنا لیا۔ تب موسی علیہ السلام کو اللہ تعالی نے حکم دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تم بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر باپ دادا کی زمین کی طرف لے جاؤ۔ اللہ تعالی کے حکم کے مطابق موسی علیہ اور ان کے بھائی ہارون علیہ السلام بنی اسرائیلیوں کو لے کر رات کے وقت روانہ ہوئے۔
تو فرعون نے دس لاکھ سواروں کے ساتھ ان کا تعاقب کیا اور حضرت موسی علیہ السلام کے ہمراہیوں کی تعداد تقریبا چھ لاکھ بیس ہزار تھی۔ پس حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کو لے کر پانی کے کنارے پہنچے۔ جب پلٹ کر دیکھا تو فرعون کے گھوڑوں کا غبار نظر آیا۔
بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے کہ اے موسیٰ تیرے آنے سے پہلے بھی ہم مصائب میں مبتلا رہے اور تیرے آ جانے کے بعد بھی معاملہ وہی ہے۔ سامنے پانی ہے اور پیچھے فرعون ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ مجھے امید کہ خدا تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور تم کو زمین کی حکومت عطا کرے گا۔
حضرت یوشع بن نون نے عرض کیا کہ اب کیا حکم ہے؟ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ پانی پر عصا ماروں اور خدا نے دریا کو وحی کی تھی کہ وہ موسی علیہ السلام کے عصا مارنے سے اس کی اطاعت کرے۔ پس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب پانی پر اپنا عصا مارا تو اس میں بارہ راستے پیدا ہو گئے۔
جس میں بنی اسرائیل کے ہر قبیلے کے لیے الگ راستے تھے۔ پس وہ کہنے لگے کہ ابھی راستوں میں کیچڑ ہے۔ ہم ایسے راستے سے نہیں چل سکتے۔ پس خدا نے باد صبا کو بھیج کر راستے خشک کر دیے۔ جب داخل ہوئے تو کہنے لگے کہ ہم ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے۔ نامعلوم کے دوسروں کا حال کیا ہوگا۔
تو حضرت موسی علیہ نے اللہ تعالی سے ان کے حالات کی شکایت کی۔ پس وہی نازل ہوئی کہ اپنے عصا سے دائیں بائیں اشارہ کرو۔ چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام نے ویسا ہی کیا۔ تو پانی کی دیواروں میں ہر دو طرف سے دروازے پیدا ہو گئے کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے۔ جب فرعون ساحل پر آپہنچا تو اس کا گھوڑا پانی میں داخل ہونے سے گھبرایا۔
پس جبرائیل بہ صورت بشر ایک گھوڑی پر سوار ہو کر فرعون کے گھوڑے کے آگے ہو گئے اور پانی میں داخل ہوئے۔ تو فرعون کا گھوڑا بھی پیچھے داخل ہو گیا۔ اس کے بعد فرعون کا لشکر بھی داخل ہونا شروع ہو گیا۔ جب بنی اسرائیل سب کے سب پار ہو گئے اور لشکر فرعون سب کا سب داخل آب ہو گیا۔ تو بحکم خدا پانی آپس میں مل گیا اور لشکر فرعون غرق ہو گیا۔
جب فرعون غرق ہونے لگا تو عذاب الہی کے ڈر سے کہنے لگا کہ میں اسی ایک واحدہ حق پر ایمان لاتا ہوں۔ مگر اللہ تعالی کی طرف سے جواب دیا گیا کہ اب ایمان لاتا ہے۔ حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسد بنا رہا۔ تو آج ہم تیرے بدن کو دریا سے نکال لیں گےمفسد تاکہ تو پچھلوں کے لیے عبرت ہو اور بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بے خبر ہیں۔
فرعون کی لاش
قرآن کی تعلیم صحیح ثابت ہوئی اور فرعون کی یہ لاش اٹھارہ سو اکاسی کو بحر احمر سے ملی۔ جوکہ آج بھی مصر کے عجائب خانے میں محفوظ ہے۔ فرعون نے خدا ہونے کا دعوی کیا اور اللہ تعالی نے اسے غرق کر کے اس کی لاش کو نشان عبرت بنا دیا۔
فرعون کی لاش کی لمبائی دو سو دو سینٹی میٹر ہے۔ فرعون کی لاش بارہ سو پینتیس قبل مسیح میں سمندر میں ڈوبی ہوئی تھی۔ تین ہزار ایک سو سولہ سال سمندر میں پڑے رہنے کے باوجود یہ گلنے سڑنے سے محفوظ رہی۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن مجید ایک الہامی کتاب ہے۔ سبحان اللہ
فرعون کا اصل نام کیا تھا؟
فرعون کے حقیقی نام کے بارے میں کوئی مظبوط سند تو مجود نہیں۔ جس کی وجہ سے بعض اہلِ علم کا ماننا یہ ہے کہ فرعون ہی اس کا حقیقی نام ہے۔ جب کہ دیگر اہلِ علم کی رائے یہ ہے کہ اس زمانہ میں فرعون ایک لقب تھا۔ جو قوم عمالقہ کے ہربادشاہ کو دیا جاتا تھا۔ اس حساب سے فرعون کا حقیقی نام”ولید بن مصعب بن ریّان” تھا۔ جبکہ بعض اہلِ علم کی کتابوں میں فرعون کو “قابوس” نام بھی دیا گیا ہے۔

Translation of:The terrible end of Pharaoh

Three thousand years ago today, when the Pharaoh in Egypt oppressed the Israelites and made them his slaves. Then Allah commanded Musa (peace be upon him) that the time has come for you to take the children of Israel out of Egypt and lead them to the land of their fathers. According to the order of Allah Almighty, Moses and his brother Harun (peace be upon them) took the children of Israel and left at night.
So Pharaoh pursued them with one million horsemen and the number of companions of Hazrat Musa (peace be upon him) was about six hundred and twenty thousand. So Hazrat Musa (peace be upon him) took them to the water’s edge. When he looked back, he saw a cloud of Pharaoh’s horses.
The children of Israel said to Hazrat Musa (peace be upon him), “O Musa, we were suffering even before you came and the same is the case after you came.” In front is water and behind is Pharaoh. Hazrat Musa (peace be upon him) said to them, “I hope that God will destroy your enemy and give you the government of the earth.”
Hazrat Yoshua bin Nun asked what is the order now? So Hazrat Musa (peace be upon him) said that I have been ordered to strike the water with a staff and God had revealed to the river that it should obey him by striking the staff of Moses (peace be upon him). So when Hazrat Musa (peace be upon him) struck his staff on the water, twelve paths were created in it.
In which there were separate paths for each tribe of Bani Israel. So they said that there is mud in the roads. We cannot follow such a path. So God sent the wind Saba and dried up the roads. When they entered, they said that we cannot see each other. What will happen to the others of the unknown?
So Hazrat Musa (Alaihi) complained to Allah about their situation. So it was revealed that you point with your scepter right and left. So Hazrat Musa (peace be upon him) did the same. So in the walls of water, doors were created on each side so that they could see each other. When Pharaoh reached the shore, his horse was afraid to enter the water.
So Gabriel, in the form of a human being, rode on a mare and went in front of Pharaoh’s horse and entered the water. So Pharaoh’s horse also entered behind. After that, Pharaoh’s army also started to enter. When the children of Israel crossed over and Pharaoh’s army entered the water. So by God’s command, the water mixed together and Pharaoh’s army drowned.
When Pharaoh began to drown, fearing divine punishment, he said, “I believe in this one truth.” But it was answered by Allah Almighty that now he believes. Although you used to disobey and become corrupt. So today We will take your body out of the river Mafasad so that you will be an example for those who came before and many people are unaware of Our signs.
Pharaoh’s body
The teachings of the Quran proved to be correct and this body of Pharaoh was found in the Red Sea on 1881. Which is still preserved in the museum of Egypt. Pharaoh claimed to be God and Allah made his body a sign of lesson by drowning him.
The length of Pharaoh’s body is two hundred and two centimeters. Pharaoh’s body was drowned in the sea in 1235 BC. Despite lying in the sea for three thousand one hundred and sixteen years, it remained safe from decay. This incident is proof that the Holy Quran is an inspired book. Subhan Allah
What was Pharaoh’s real name?
There is no solid evidence about Pharaoh’s real name. Due to which some scholars believe that Pharaoh is his real name. While the opinion of other scholars is that Pharaoh was a title in this era. Which was given to the king of Amalek. According to this calculation, Pharaoh’s real name was “Waleed bin Musab bin Rayyan”. While in the books of some scholars, the name “Qaboos” has also been given to Pharaoh.
For more waqiat like this click here

You May also Like:)

Love quote in Urdu
“Echoes of Sorrow: Sad Quote in Urdu”

Beautiful islamic quotes in urdu|islamic quotes

3
Beautiful Islamic quotes

Beautiful Islamic quotes:

Beautiful Islamic quotes hold a special place in the Urdu language. These short yet profound sayings offer not only guidance for navigating life but also a way to deepen our connection with Allah. They remind us of the importance of patience during difficulties and gratitude for blessings. One such quote states, “Knowledge is that which brings you closer to Allah,” while another emphasizes the importance of character with the saying, “There is no greater adornment than good character.” These quotes serve as a constant reminder that true knowledge and good character are the cornerstones of a fulfilling life for a Muslim.

Beautiful Islamic quotes

علم وہ ہے جو تمہیں اللہ سے ملاتا ہے اور
جہالت وہ ہے جو تمہیں اللہ سے دور کرے۔
For more quote like this click here

You May also Like:)

Love quote in Urdu
“Echoes of Sorrow: Sad Quote in Urdu”

حضرت عیسی علیہ السلام اور بوڑھا کسان

0
حضرت عیسی علیہ السلام اور بوڑھا کسان
For more waqia click here
حضرت عیسی علیہ السلام اور بوڑھا کسان
ایک دفعہ حضرت عیسی علیہ السلام ایک جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص بیلچہ اٹھائے اپنی زمین سے جڑی بوٹیاں صاف کر رہا ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی کہ وہ اس کے دل سے دنیا کی محبت نکال دے۔ دعا کے فورا بعد بوڑھے نے بیلچہ زمین پر رکھا اور آرام کرنے لگا۔
کچھ وقت گزرنے کہ بعد جناب عیسی علیہ السلام نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے پھر درخواست کی کہ اس کے دل میں دنیا کی محبت پیدا کر دے۔ آپ علیہ السلام نے جیسے ہی یہ دعا مانگی تو بوڑھا اپنے مقام سے اٹھا اور بیلچہ اٹھا کر دوبارہ محنت کرنے لگا۔ حضرت عیسی علیہ السلام اس بوڑھے کے پاس گئے اور پوچھا تم نے بیلچہ ایک دفعہ زمین پر کیوں رکھا اور پھر تم نے دوبارہ کیوں اٹھایا؟
بوڑھے نے کہا میں کام کر رہا تھا کہ میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں ایک بوڑھا شخص ہوں۔ کہاں تک محنت کی زحمت برداشت کرتا رہوں گا۔ ممکن ہے کہ میں ابھی مر جاؤں۔ تو یہ محنت میرے کس کام آئے گی۔ یہ سوچ کر میں نے بیلچہ زمین پر رکھ دیا تھا۔ اس کے چند لمحے بعد میرے دل میں یہ خیال آیا کہ تو اس وقت زندہ ہے اور ہر زندہ شخص کے لیے وسائل زندگی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر تو کام نہیں کرے گا۔ پھر وسائل سے محروم ہو جائے گا اور روٹی کہاں سے کھائے گا۔ چنانچہ میں یہ سوچ کر اٹھ کھڑا ہوا اور بیلچہ ہاتھ میں لے کر دوبارہ محنت کرنے لگا۔

:سبق

اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر انسان کے دل سے دنیا کی محبت ختم ہو جائے اور اللہ تعالی کی محبت پیدا ہو جائے۔ تو وہ اللہ تعالی کے دیے ہوئے کم رزق پر بھی شکر ادا کرتا ہے اور ایک پر سکون زندگی گزارتا ہے۔ جبکہ اگر دل میں دنیا کی محبت پیدا ہو جائے۔ تو اس کے دل میں لالچ بڑھتا ہی جاتا ہے اور وہ کبھی پرسکون زندگی نہیں گزار پاتا

For more information click here

You May also Like:)

Love quote in Urdu
“Echoes of Sorrow: Sad Quote in Urdu”

شداد کی جنت

0
شداد

شداد کی جنت

شداد

For more stories like this click here
قوم عاد دنیا کی تاریخ کی ایک طاقتور قوم گزری ہے۔ یہ لوگ بہت ہی لمبے قد و قدامت کے تھے۔ اپنی طاقت کے بل بوطے سے یہ لوگ بہت جلد پورے یمن پر قابض ہو گئے۔ ان پر کئی بادشاہوں نے حکومت کی مگر دو بادشاہ ایسے آئے۔ جن کی حکومت عظیم اور جاہ و جلال والی تھی۔ ان میں سے ایک کا نام شدید اور دوسرے کا شداد تھا۔ یہ دونوں بھائی تھے اور انہوں نے اپنے زمانے میں بے شمار لشکر و خزانے جمع کیے تھے۔
یہ دونوں بھائی ارم بن سام بن نوح کی اولاد میں سے تھے۔ ان کی کل حکومت عمان، یمن، عدن، اورشمالی عرب کے علاقوں پر تھی۔ جب شدید کی موت واقع ہوئی تو پوری حکومت شداد کو مل گئی۔ اس نے تمام قبائلی سردار اور بادشاہوں کو اپنا متی و فرمانبردار بنا لیا اور اس طرح پورے جنوبی عرب پر اس کی حکومت ہو گئی۔
یہی وجہ تھی کہدنیا کے دیگر ممالک کے بادشاہ اس کے باجگزار ہو گئے۔ اس تسلط اور غلبے نے اس کو اتنا مغرور اور متکبر کر دیا کہ اس نے خدائی کا دعوی کر ڈالا۔ اس وقت کے علماء اور پیغمبروں کے پیروکار نے اسے سمجھایا اور عذاب الہی سے ڈرایا۔ مگر وہ کہنے لگا “میرے پاس اب دولت و حکومت سب کچھ ہے، اب خدا کی عبادت کی ضرورت نہیں اور میں اب کسی کی اطاعت نہیں کروں گا”۔
شداد نے حضرت ہود علیہ السلام کی زبان سے یہ سن رکھا تھا کہ جنت کیسی ہوگی اور اس کی نعمتیں اور خوبصورتی کا کیا عالم ہوگا۔ اس لیے اس نے زمین پر جنت کی تعمیر کا ارادہ کیا۔ وہ کہتا تھا مجھے اس جنت کی ضرورت نہیں ہے، جو خدا نے بنائی ہے۔ ایسی جنت تو میں خود دنیا میں ہی بناؤں گا۔
لہذا اس نے سو معتبر افراد کو جمع کیا اور ہر ایک کو ایک ہزار آدمیوں پر مقرر کیا اور پورے دنیا کے ماہرین کو عدن آنے کی دعوت دی۔ اس نے اپنے بھانجے زہاق کو جو ایران کا بادشاہ تھا۔ پیغام بھیجا کہ جتنا سونا چاندی تمہارے پاس جمع ہے۔ وہ فورا میرے پاس بھیج دو۔ زہاق نے ایسا ہی کیا اس نے تمام حکمرانوں اور سرداروں کو یہ حکم دیا کہ سونے چاندی کے کانوں سے اینٹیں بنوا کر بھیجے اور کوہ عدن کے متصل ایک مربع شہر جو دس کوس چوڑا اور دس کوس لمبا ہو بنانے کا حکم دیا۔
اس کی بنیادیں اتنی گہری کھدوائیں کہ پانی کے قریب پہنچا دیں۔ پھر ان بنیادوں کو سنگ سلیمانی سے بھروا دیا۔ جب بنیادیں بھر کر زمین کے برابر ہو گئی تو اس پر سونے چاندی کی دیواریں چنوائی گئیں۔ ان دیواروں کی بلندی اس زمانے کے گز کے حساب سے سو گز مقرر کی گئی۔ جب سورج نکلتا تو اس کی چمک سے دیواروں پر نگاہ نہیں ٹھہرتی تھی۔
یوں شہر کی چار دیواری بنائی گئی۔ اس کے بعد چار دیواری کے اندر ایک ہزار محل تعمیر کیے گئے۔ ہر محل ایک ہزار ستونوں والا تھا اور ہر ستون جواہرات سے جڑاؤ کیا ہوا تھا۔ پھر شہر کے درمیان میں ایک نہر بنوائی گئی اور ہر محل میں اس نہر سے چھوٹی چھوٹی نہریں لے گئیں۔ ہر محل میں حوض اور فوارے بنائے گئے۔ ان نہروں کی دیواریں اور فرش یاقوت، زمرد، مرجان اور نیلم سے سجا دی گئیں۔
نہروں کے کناروں پر ایسے مصنوعی درخت بنائے گئے۔ جن کی جڑیں سونے کی شاخیں اور پتے زمرد کے تھے۔ ان کے پھل، موتی و یاقوت اور دوسرے جواہرات کے بنوا کر ان پر ٹانگ دیے گئے۔ شہر کی دکانوں اور دیواروں کو مشک و زعفران اور امبر و گلاب سے یاقوت و جواہرات کے خوبصورت پرندے چاندی کی اینٹوں پر بنوائے گئے۔ جن پر پہرے دار اپنی اپنی باری پر آکر پہرے کے لیے بیٹھتے تھے۔
جب تعمیر مکمل ہو گئی حکم دیا کہ سارے شہر میں ریشم کے قالین بچھا دیے جائیں۔ پھر نہروں میں سے کسی کے اندر میٹھا پانی، کسی میں شراب، کسی میں دودھ اور کسی میں شہد اور شربت جاری کر دیا گیا۔ روایتوں میں آتا ہے کہ اس جنت کو بنانے میں تین سو سال لگے اور شداد کی عمر نو سو سال کے قریب تھی۔
باغ کے مکمل ہونے کے بعد وہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ متکبرانہ انداز میں شہر کی طرف روانہ ہوا۔ جب قریب پہنچا تو تمام شہر والے اس کے استقبال کے لیے شہر کے دروازے کے باہر آگئے اور اس پر زر و جواہر نچھاور کرنے لگے۔ ابھی اس نے گھوڑے کی رقاب سے ایک پاؤں نکال کر دروازے کی چوکھٹ پر رکھا ہی تھا کہ کہ ملک الموت نے اس کی روح قبض کر لی۔
پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بڑے زور سے ایک ہولناک چیخ ماری کہ تمام شہر اپنی عالی شان سجاوٹوں اور محلات کے ساتھ زمین دوز ہو گیا اور اس کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ علماء و مورخین نے کتابوں میں لکھا ہے کہ بادشاہ اور اس کے لشکر کے ہلاک ہو جانے کے بعد وہ شہر بھی لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل کر دیا گیا
Verified by MonsterInsights